Wednesday, August 29, 2012

Poetry ( Urdu Ghazals ) 4


                                    آج جو تنہا ہے وہ‎ ‎

 آج جو تنہا ہے وہ‎ ‎‏ پردیس میں
ضرور مجھ کو اس نے سوچا ہو گا
خوابوں اور خیالوں میں میرا ہی چہرا تراشا ہو گا
راہ چلتے جو‎ ‎‏ اس کو میرا خیال آیا ہو گا
ایک نظر رک کر آسمان پہ چاند کو دیکھا ہو گا
جب ساتھ تھے تو ہر روز ہی لڑتے تھے مجھ سے
اب دن میں سو بار‎ ‎‏ خود سے بگڑتے ہو گے
کتابوں میں میرا نام ہی ڈھونڈتے ہو گے
اور نہ پا کے اسے
آپ ہی سے روٹھ جاتے ہو گے
 تنہا سرد راتوں میں یونہی سڑک پہ ٹھہرے ہوئے
خیالوں ہی خیالوں میں
ہاتھ اس نے میرا تھاما ہو گا
پھر کسی پل کے نیچے رک کر
آنکھوں میں میرے اس نے جھانکا ہو گا

                                        وہ زندگی کیا ہے

کسی کے کام نہ‎ ‎آئے وہ زندگی کیا ہے
ادب جس میں نہ ہو شامل وہ بندگی کیا ہے‎
اونچے محلوں میں گزر کرتے ہیں جہاں روشن
وہ کیا سمجھیں مفلسوں کی مفلسی کیا ہے
سوکھے ادھ ننگے بدن فاقوں کو مجبور ہیں جو
غور سے سوچو ذرا یہ بھی زندگی کیا ہے
موج مستی کو ہوں گے دوست ہزاروں لیکن
برے دن میں نہ آئے کام وہ دوستی کیا ہے
کرے جو درج اپنا نام نہیں صفحوں میں
مقام جس کا مرتبہ نہ وہ ہستی کیا ہے
امن اور چین سکون جہاں نہ ڈیرا ہو
بسیرا خاک ہے ساقی وہ بستی کیا  ہے


                                         زندگی‎
 ‎
کچھ ادھوری خواہشوں کا سلسلہ ہے زندگی‎ ‎
منزلوں سے اک مسلسل فاصلہ ہے‎
میرے دروازے پہ‎ ‎‏ دستک دے کے
 چھپ جانے کا کھیل
کب تلک کھیلے گی
یہ ‏کیا بچپنہ ہے زندگی
تیرے افسانے تو‎ ‎‏ میں سنتا رہا ہوں بارہا
نام کیا تو نے کبھی میرا سنا ہے زندگی
زندہ ہوں دوستوں کی دعاؤں کے باوجود
روشن ہے کتنی تیز ہواؤں میں زندگی
اپنی تمام شوخ اداؤں کے باوجود
بہلا سکی نہ جی میرا اک پل بھی زندگی
بوجھل ہے رات چاند ستاروں کے باوجود
سورج کے باوجود اندھیرا ہے زندگی
برباد ہم کو ہونا تھا ہم ہوئے
قاتل تھے جتنے میرے سبھی ہو گئے بری
اور چپ کھڑی تھی
 چشم دید گواہوں سے سی زندگی


   ( 1 ) . ( 2 ) . ( 3 ) . ( 4 )  Last


1 comment:

  1. Well done Great job keep it up & update on daily basis if you increase your visitor.

    ReplyDelete